اسمینہ (۴۸) اپنی ساتھی زبیدہ کے ساتھ ہنستے ہوئے ان دنوں کو یاد کرتی ہیں جب انہوں نے اپنی ماؤں کے ذریعہ پھینکی گئی گندم کی تیلیوں سے چھوٹی ٹوکریاں تیار کی تھیں۔ میوات علاقہ کی زیادہ تر لڑکیوں کی طرح انہوں نے بُنائی کا ہنر اپنی ماؤں کے اصرار پر سیکھا تھا، مگر یہ ان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ یہی ہنر ایک دن ان کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ بن جائے گا۔
اسمینہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں، ’’ہم انہیں بناتے تھے اور اپنے رشتہ داروں کو مفت میں دے دیا کرتے تھے۔ اب جب بِکن لاگےی تو ہم نا دیویں فری میں [اب جب بکنے لگی ہیں تو ہم انہیں مفت میں نہیں دیتے]۔‘‘
ہریانہ کے نوح ضلع کے گھاسیڑا گاؤں میں اپنے گھر کے صحن میں سیمنٹ کے بینچ پر بیٹھی، وہ دیسی گیہوں کی ہاتھ بھر لمبی تیلی نکالتی ہیں اور ایک باریک سوئی کا استعمال کرتے ہوئے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کرتی ہیں۔ پھر ایک پٹی کا انتخاب کرتے ہوئے، وہ بڑی جتن سے اسے اپنی چنگیری (کم گہرائی والی ڈلیا) کی بڑھتی ہوئی گولائی میں بُن دیتی ہیں۔
اسمینہ کہتی ہیں، ’’اگر گھر میں مہمان آگو اور چنگیری میں روٹی دھر کے نا دی، تو یو کیں گے کہ اسمینہ نے پلیٹ میں روٹی دھر کے دی، چنگیری میں نا دی [اگر گھر میں مہمان آ گئے اور میں نے چنگیری میں روٹیاں نہ دیں، تو وہ شکایت کریں گے کہ روٹیاں پلیٹ میں دی، چنگیری میں نہیں دی]۔‘‘
چنگیری کثیر المقاصد ڈلیا ہوتی ہے، جنہیں ہریانہ اور راجستھان کے میوات علاقہ کی خواتین روایتی طور پر بُنتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب یہ چنگیریاں شادی کی تقریبات، عید اور دیگر تہواروں کے موقعوں پر دیے جانے والے تحائف کی روایت کا حصہ تھیں۔

















